Lal Masjid Massacre | Phosphorus Bombing Speaks For Itself
Daily Jinnah Karachi, August 1, 2007 and Daily Ummat, August 1, 2007
The following two reports from two different Urdu dailies in Paksitan report that the flies sitting on coffins of the victims of lal Masjid massacre were also dying. The government authorities said that the flies died becuause of the chemicals used over the dead bodies. Yesterday when some relatives retrived coffins of their loved ones to move to their respective areas, they found thousands of dead dlies inside the graves and on the coffins. The bodies were burnt and disfigured. Relatives of the victims invited media reporters present on the occasion to witness it for themselves. It was reported the flies were still dying after a few minutes of sitting on the coffins. Moreover, bodies in the coffins were almost melted with some water and blood stll visible.
|
Wednesday, August 01, 2007 |
|
جامعہ حفصہ آپریشن ، لاشیں ٹھکانے لگانے کیلئے فاسفورس کا استعمال ، تا بوتوں پر بیٹھنے والی مکھیاں بھی مرنے لگیں |
|
|
اسلام آباد( خبر نگار) سانحہ لال مسجد، جامعہ حفصہ ميں شہيد ہونيوالے افراد کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے يا ان کو مارنے کيلئے فاسفورس کيميکل کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جس سے قبرستان ميں تابوتوں سے جلی اور گلی ہوئی لاشيں دیکھی گئی ہيں تابوتوں اور قبروں کے اندر بيٹھنے والی مکھيوں کو مرے ہوئے اور بيٹھنے پر مر جاتے ہوئے ديکھا گيا ہے حکومتی ذمہ داران کا موقف ہے کہ لاشوں کو محفوظ اور بدبو سے بچانے کيلئے جو کيميکل استعمال کيا گيا ہے اس سے مکھياں مری ہيں گزشتہ روز جب اسلام آباد انتظاميہ سانحہ لال مسجد، جامعہ حفصہ کے شکار طلباء ، افراد کی لاشيں H-11 قبرستان سے نکالی جا رہی تھیں تو لاشيں جلی ہوئی اور گلی ہوئی تھیں ان تابوتوں کے اندر اور قبروں ميں ہزاروں مکھياں مری ہوئی تھیں لاشوں کے ورثاء نے موجود ميڈيا کو يہ صورتحال دکھائی اور حکومت پر الزام لگايا کہ اس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر فاسفورس بم استعمال کئے ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ جو مکھياں اب بھی ادھر بيٹھ رہی ہيں وہ تھوڑی دير بعد مر جاتی ہيں ان کا الزام تھا کہ پھر لاشوں کو ناقابل شناخت بنانے اور گوشت کو گلنے کيلئے کوئی کيميکل استعمال کيا گيا ہے ورثاء نے چيف جسٹس آف پاکستان سے اس کا نوٹس لينے کی اپيل کی۔ جب موقع پر موجود حکومتی ذمہ داران سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا اندازہ ہے کہ لاشوں کو بدبو اور محفوظ کرنے کيلئے کوئی کيميکل استعمال کيا گيا ہو گا جس سے مکھياں مر رہی ہيں۔ جب ميڈيا نے خود قبروں کے اندر تہہ ميں ديکھا تو وہاں مکھيوں کے مرنے کی تہہ ديکھی جا سکتی تھی۔ دريں اثناء اسلام آباد انتظاميہ نے سانحہ لال مسجد و جامعہ حفصہ ميں شہيد ہونيوالے سات افراد کی لاشيں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی ہيں جو وہ اپنے اپنے علاقوں ميں لے گئے ہيں يا انہوں نے H-11 قبرستان ميں ہی قبر ميں رہنے دينے کو ترجيح دی ہے گزشتہ روز رحمن علی ايبٹ آباد، عبداللہ شہزاد چارسدہ، عبدالرحمن راولپنڈی، مصباح اللہ چارسدہ، امين اللہ صوابی کی لاشيں ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہيں ان کے ورثاء نے متذکرہ بالا لاشيں وصول کر لی ہيں ان ميں يار بادشاہ اور جمیل بادشاہ جن کا تعلق مہمند ايجنسی سے ہے بھی شامل ہيں۔ ايبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے محمد زاہد کی قبر کو اس کے ورثاء نے نہيں کھلوايا بلکہ قبر پر اکتفا کرکے اسے ادھر ہی رہنے دیا ہے جبکہ متذکرہ بالا باقی لاشوں کے ورثاء نے ناقابل شناخت لاشوں کو حکومتی يقين دہانی کہ انہی کے پياروں کی لاشيں ہيں پر وصول کر ليا ہے۔ جبکہ لال مسجد کے معزول خطيب مولانا عبدالعزيز کے عزيزوں مولانا انعام اللہ اور عطاء محمد کی ميتيں ناقابل شناخت اور گوشت کے لوتھڑوں کی وجہ سے ان کے ورثاء نے لاشيں وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے ڈی اين اے رپورٹ پر انہيں اعتماد نہيں آزادانہ ڈی اين اے ٹيسٹ کيلئے وہ سپريم کورٹ سے رجوع کريں گے۔ مولانا عبدالعزيز اور علامہ عبدالرشيد غازی کے ماموں زاد عطاء محمد اور پھوپھی زاد مولانا انعام اللہ کی قبريں کھودی گئیں تو ان کے عزيزوں عثمان مزاری اور ديگر موجود تھے مولانا انعام اللہ کی مبينہ قبر ميں تابوت ميں گوشت کے تين ٹکڑے الگ الگ پڑے تھے تابوت ميں کم از کم تين انچ تک پانی کھڑا تھا جس ميں خون بھی ملا ہوا نظر آرہا تھا چہرے يا کسی جگہ سے اس کی شناخت ممکن نہ تھی اس پر ورثاء نے کہا کہ يہ ان کے عزيز کی لاش نہيں ہے ان کی اطلاع کے مطابق وہ زندہ گرفتار ہوئے تھے ان کو غلط لاش دے کر خاموش کروایا جا رہا ہے اس لئے ہم يہ لاش نہيں ليں گے اسی طرح عطاء محمد کی قبر کھودی گئی تو اس تابوت ميں ايک سر، ايک بازو اور گوشت کے کچھ ٹکڑے تھے وہ لاش ورثاء نے وصول کرنے سے انکار کر ديا۔ اس کے بعد دونوں لاشيں انہی قبروں ميں دفن کر دی گئیں۔
~*~*~*~*~*
Daily Ummat, August 1, 2007 Report below.
Teh following report repeats the same facts with a bit more details about each grave and the content there in. In some coffins there were three bodies. some bodies were burt, others had melted. Some graves had dead flies, others had not.














